Post Date
Mar 7 2021

متحرک آکسائیڈ آین، رواں بجلی

Authors
روشان بخاری

شدید گرمی اور حبس کے موسم میں باہر نکل کر کام کرنے کا دل چاہتا ہے؟ نہیں؟ آکسائڈ آئنز (oxide ions) کا بھی نہیں!
لیکن انسان اور آکسائڈ آئنز  میں ایک بنیادی فرق ہے: جب ہم زیادہ چلتے ہیں تو تھک جاتے ہیں، جبکہ آکسائڈ آئنز  حرکت میں آئیں تو بجلی بنا سکتے ہیں!!!   

جی ہاں! سائنسدانوں نےآکسائڈ آئنز کی “چہل قدمی” کے لیے بہتر ماحول پیدا کر کے بجلی بنانے کا ایک ایسا طریقہ دریافت کیا جس میں صرف ہائیڈروجن، ہوا اور آکسائڈ آئنز  کی روانی درکار ہے۔اس دریافت میں solid oxide fuel cells (SOFCs) کا مرکزی کردار ہے۔

یہ سارا عمل تین آسان اورمختصر نکات میں بھی بتایا جا سکتا ہے:
۱۔ ایک طرف ہائیڈروجن گیس کو توڑ کر ہائیڈروجن آئنز (H+) بنائیں۔
۲- دوسری طرف آکسیجن گیس کو توڑ کر آکسائڈ آئنز (O-2) بنائیں۔
۳- ان دونوں کو ایک دوسرے سے ملا کر بجلی حاصل کریں۔ 

اس سارےعمل کو بروئے کار لانے میں ایک بڑا چیلنج درپیش ہے۔ دراصل SOFCs سے بجلی بنانے کے عمل میں آکسائڈ آئنز کو ایک ٹھوس برق پاش (electrolyte) سے گزر کر ہائیڈروجن آئنز سے ملنا ہوتا ہے۔ روایتی طور پر اس برق پاش کو ۷۰۰ سینٹی گریڈ کے درجہ حرارت پر رکھا جاتا ہے تاکہ آکسائڈ آئنز کے لیے اس کی ایصالیت برقرار رہے۔ لیکن اتنے زیادہ درجہ حرارت کو طویل مدت کے لیے برقرار رکھنا SOFCs کے استعمال کو مشکل بنا دیتا ہے۔ اس مسئلے کو سلجھانے کے لیے ایک نئے قسم کے برق پاش پر تحقیق کی گئی جس میں آکسائڈ آئنز کی ایصالیت کم درجہ حرارت (۶۰۰ سینٹی گریڈ) پر بھی برقرار رکھی جا سکتی ہے۔ 

پیرووسکائیٹ (perovskite) سے اخذ کردہ کرسٹل (Ba3VWO8.5) کی برقی صلاحیتوں کا جائزہ لیا گیا اور معلوم ہوا کہ اس مٹیریل کو SOFCs میں بطور برق پاش استعمال کر کے مطلوبہ نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ اس کرسٹل میں پائے جانے والی آکسیجن کی بے ترتیبی اس کی ایصالیت بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

اس تحقیق کی قیادت ڈاکٹر فلک شیر نے کی اور ان کی پی-ایچ-ڈی شاگرد اسماء گیلانی شریک مصنف ہیں۔ یہ تحقیق Journal of Materials Chemistry A میں شائع کی گئی۔
حوالہ:J. Mater. Chem. A, 2020, 8, 16506-16514 (DOI: 10.1039/D0TA05581F)
لنک

https://pubs.rsc.org/en/content/articlehtml/2020/ta/d0ta05581f