Dr. Akhtar
Post Date
Sep 16 2020

لکی مروت کے پہلے پی-ایچ-ڈی سائنسدان کی کہانی

Authors
روشان بخاری
لکی مروت کے پہلے پی-ایچ-ڈی سائنسدان کی کہانی
Story
پیدا ہونے سے لے کر زندگی کے اختتام تک کے اس لازمان سلسلے میں انسان کچھ برس کا سفر زمین کے سر سبز میدان، آسمان سے باتیں کرتے پہاڑوں اور تپتے ریگستانوں کے دامن میں گزارتا ہے اور سوچتا ہے کہ کیا اسکی زندگی کا کوئی مقصد ہے بھی یا نہیں۔ ہم میں سے اکثر لوگ کسی ایسے انسان کو ضرور جانتے ہوں گے جو اس مقصد کی تلاش میں اپنے گھر، دوست اور رشتہ داروں سے دور جا کر علم سے دوستی کے سفر کا آغاز کرنا چاہتا ہو یا کر چکا ہو۔

پیدا ہونے سے لے کر زندگی کے اختتام تک کے اس لازمان سلسلے میں انسان کچھ برس کا سفر زمین کے سر سبز میدان، آسمان سے باتیں کرتے پہاڑوں اور تپتے ریگستانوں کے دامن میں گزارتا ہے اور سوچتا ہے کہ کیا اسکی زندگی کا کوئی مقصد ہے بھی یا نہیں۔ ہم میں سے اکثر لوگ کسی ایسے انسان کو ضرور جانتے ہوں گے جو اس مقصد کی تلاش میں اپنے گھر، دوست اور رشتہ داروں سے دور جا کر علم سے دوستی کے سفر کا آغاز کرنا چاہتا ہو یا کر چکا ہو۔

آئیے ملتے ہیں ایک ایسے ہی شخص سے، جس کا آبائی شہر تو لکی مروت ہے مگر علم کی طلب اسے پشاور، اسلام آباد اور لاہور لے چلی اور آج وہ شخص اپنے آبائی علاقے کا پہلا پی-ایچ-ڈی اسکالر بن چکا ہے۔ یہ ہے ڈاکٹر اختر منیر۔

دراصل ڈاکٹر اختر کا کیمیا سے عشق ایف ایس سی مکمل ہونے کےفوراً بعد ہی شروع ہو گیا تھا۔ انھیں لگا کہ قدرت کی جانب سے ان کے لیے فیصلہ ہو چکا ہے کہ وہ کیمسٹری کو بطور مضمون اپنائیں گے۔ لہٰذا ، انہوں نے لمز میں اپنے سفر کو شروع کرنے سے قبل قائداعظم یونیورسٹی سےغیر نامیاتی اور تجزیاتی  کیمسٹری میں ایم ایس سی اور ایم فل  کی ڈگری حاصل کی۔

لیکن مفت میں مشورہ کون نہیں دیتا؟ یہ کتنی عام سی بات ہے کہ آپ اپنے کیریئر سے متعلقہ کوئی بھی قدم اٹھانے کا سوچیں تو کبھی دائیں کبھی بائیں سے آواز آتی ہے “ارے ایسے کرلو، ارے ویسے کر لو!”۔ قائد اعظم یونیورسٹی سے ایم ایس سی کے بعد بہت سے لوگوں نے ڈاکٹر اختر کو بھی کچھ ایسے ہی کہا؛ “لمز کیوں جانا چاہتے ہو؟ باہر کی یونیورسٹی جانا بہتر ہوگا، اچھا چلو قائد اعظم یونیورسٹی ہی چلے جاؤ”۔ لیکن ڈاکٹر اختر نے صرف اپنے دل کی سنی اور لمز میں پی-ایچ-ڈی میں داخلہ لیا۔ ڈاکٹر صاحب کے مطابق یہ ان کی تعلیمی اور پیشہ ورانہ زندگی کا سب سے اچھا فیصلہ تھا۔

دنیاوی مقصد تو انسان کو خود ہی بنانا پڑتا ہے۔ تو کیوں نہ ایسا مقصد بنا لیا جائے جس کی کاوش کے نتائج نہ صرف ذاتی بلکہ عوامی اور ملکی سطح پر بھی مرتب ہوں! ڈاکٹر اختر نے یہاں بھی ایک اچھا فیصلہ کیا اور انسانی فلاح و بہبود کو مدنظر رکھتے ہوے پانی سے توانائی حاصل کرنے کا ایک انوکھا اور موثرطریقہ ایجاد کیا جس کے نتیجےمیں بننے والی ہائڈروجن گیس کو بطور ایندھن استعمال کیا جا سکے گا۔ ڈاکٹر اختر نے بتایا کہ اس تجربے میں پانی سے ہائڈروجن الگ کرنے کے لیے انہوں نے کوبالٹ اور نیکل جیسی دھاتوں سمیت گرافین آکسائڈ  (graphene oxide)   اور انتہائی چھوٹے سوراخوں پر مبنی کاربن  (mesoporous carbon)   بھی استعمال کی۔ اس طرح انھوں نے ایک نئی قسم کے نینو عمل انگیز  (nano-catalyst)   کی دریافت کی جس سے روایتی طریقہ کار کی نسبت کئی گنا زیادہ ہایڈروجن گیس بنائی جا سکتی ہے۔

یہ مٹیریل انسانی آنکھ براہِ راست دیکھ تو نہیں سکتی لیکن عقل کا سہارا لے کرانسان آسمان و زمیں کی حدیں چھو سکتا ہے اور خود بھی اپنی قابلیت پر حیران ہو جاتا ہے۔ 

ڈاکٹر اختر کا ماننا ہے کہ آج کل کے دور میں نینو ٹیکنالوجی پر زیادہ کام صحت اور توانائی کے شعبے میں ہو رہا ہے۔ یہ دونوں ہی انسان کی سب سے بڑی اور نمایاں ضروریات زندگی بن چکےہیں۔ ٹرک، گاڑی اور ہوائی جہاز، یہ سب پٹرولیم مصنوعات کو جلا کر چلائے جاتے ہیں اور اس کے نتیجے میں خارج ہونے والا خطرناک اور مضر صحت فضلہ ہوا میں بکھر جاتا ہے۔ کیا ہم اپنے بچوں کے لیے آلودگی سے بھری دنیا چھوڑ کر جانا چاہتے ہیں؟ کیا ہم اس نظام میں کوئی تبدیلی نہیں لانا چاہتے؟ کیا اس آلودہ ماحول سے نکلنے کی لیے کوئی تیار نہیں؟ آلودگی سے نجات حاصل کرنے کے لیے ہمیں ہایڈروجن گیس جیسے قابل تجدید توانائی   (renewable energy)  کے وسائل تلاش کرنے ہوں گے، جو کہ ڈاکٹر اختر کی تحقیق کا مرکزی مضمون ہے۔

شاید ڈاکٹر اختر کے آبائی علاقے کی کم حالی اور پسماندگی ہی انکی کامیابی کی وجہ بنی کیونکہ انھوں نے کبھی اپنے حوصلے پست نہ ہونے دیے اور یہی وجہ ہے کہ آج ان کا نام انکے علاقے کے لوگوں کے لیے باعثِ فخر ہے۔

انسان اس کرّہ ارض پہ چند دیہائیوں کے لیے قدم رکھتا ہے۔ اس مختصر وقت میں اپنا مقصد کھوجنا، اس پر محنت سے کام کرنا اور کامیابیاں سمیٹنا ، یہ شرف حاصل کرنا ہر ایک کے بس میں ہے۔ ڈاکٹر صاحب کے مطابق انہیں یہ کامیابی والدین کی دعا کے بعد لمز کی وجہ سے ملی جہاں انھیں ملے ہم خیال ساتھی، مخلص دوست اور بہترین اساتذہ بالخصوص وہ اپنے تعلیمی مربی ڈاکٹر ارشاد حسین کے تہِ دِل سے ممنون ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حقیقی طور پر لمز طلبہ میں میرٹ اور خوش آئند مسابقت کو فروغ دیتا ہے اور پھر طَلَبہ میں استقامت ، دیانتداری اور تندہی کا مزاج بھی پیدا کرتا ہے۔ چنانچہ اس زمانہ طالب علمی کے دوران ان کی شخصیت کی خوبصورت تشکیل ہوئی۔ انہوں نے خاص طور پرادارے  کے ڈین ڈاکٹر صبیح انور کے انقلابی اقدامات کی تعریف کی۔