Post Date
Mar 30 2023

کوانٹم ٹیلی پورٹیشن : ماضی، حال، مستقبل اور مادی اجسام کی تیز رفتار منتقلی کا جادوئی منظر نامہ

Authors
ملک محمد شاہد/محمد کامران خالد

آپ نے مشہور ٹی وی سیریل  ”اسٹار ٹریک “  میں انسانوں کو چشم زدن میں ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچتے دیکھا ہوگا۔ نیز  بیم می اپ کا جملہ، اور پھر کرداروں کے ہوا میں تحلیل ہونے کا منظر بھی آپ کے ذہن میں محفوظ ہو گا۔ یہ تصور ٹیلی پورٹیشن کہلاتا ہے اور یہ سائنس فکشن فلموں کا ایک اہم عنصر ہے۔ یہ اچھوتا تصور روشنی کی طرح تیز رفتار سفر ، ورم ہول جیسی پراسرار خلائی سرنگوں کے ذریعے دیگر کہکشائوں تک رسائی  اور ٹائم مشینوں جیسی حیرت انگیز تخیلاتی ا یجادات کی عکاسی کرتا ہے۔ بظاہر یہ تصور ہماری حقیقی دنیا میں ناممکن نظر آتا ہے لیکن خوشی کی بات یہ ہے کہ ٹیلی پورٹیشن کا تصور مختصر پیمانے پر ہی سہی، لیکن اب یہ حقیقت کا روپ دھارنے جا رہا ہے۔ کوانٹم کمپیوٹرز، جو کمپیوٹنگ ٹیکنالوجی میں جدت کی ایک بڑی چھلانگ کی امید ہیں، وہ بھی ایسے ہی قوانین پر انحصار کرتے ہیں۔  
 

  کوانٹم کی دنیا: ایک جہانِ حیرت
    ہم جانتے ہیں کہ کوانٹم سائنس بنیادی طور پر ایٹم کے اندر کی دنیا ہے۔ اس دنیا میں کلاسیکی طبیعیات مثلاً نیوٹن کے قوانین حرکت اور قانونِ ثقل، میکسویل کی برقی مقناطیسی مساواتیں، حرحرکیات (تھرموڈائنامکس) کے قوانین اورہماری روزمرہ زندگی میں استعمال ہونے والے سائنسی اصول وضوابط بالکل لاگونہیں کئے جاسکتے۔ 
    کوانٹم سائنس کے پیش کردہ نظریات بالکل ہی نرالے ہیں مثلاً کوانٹم تھیوری کے مطابق، ایٹمی جسامت ذروں یالہروں کی صورت میں ہوسکتی ہے۔ ان صورتوں میں کونسی صورت نظرآتی ہے، اس کاانحصارمشاہدے کے طریقے پرہے۔ گویا کہ مشاہدہ بھی تجربے کے نتائج پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ پھر اس سے بھی بڑھ کریہ کہ ہائزن برگ کے مشہور اصول عدم یقین  کے مطابق، ایٹمی پیمانے  پرکسی بھی ذرّے کے ٹھیک ٹھیک مقام (پوزیشن) اورمعیار حرکت(مومنٹم)، دونوں کا بیک وقت ٹھیک ٹھیک تعین نہیں کیاجاسکتا۔ ہم جتنی درستگی سے مقام کے بارے میں جان سکیں گے، معیار حرکت کی پیمائش اتنی ہی زیادہ غلط ہو گی۔ تیسری اور سب سے انوکھی بات یہ کہ ایٹم (یا کوئی بھی کوانٹم میکانیاتی ذرّہ)  بیک وقت اپنی تمام تر ممکنہ  کوانٹم حالتوں پر مشتمل ہوتا ہے ....لیکن صرف تب تک کہ جب تک ہم اس کا مشاہدہ نہیں کر لیتے۔ جیسے ہی ہم اس کا مشاہدہ کرتے ہیں تو وہ فوراً ہی کوئی ایک خاص کوانٹم حالت اختیار کر لیتا ہے اور ہمارے مشاہدے میں آ جاتا ہے۔ قصہ مختصر یہ  کہ کوانٹم کی دنیابہت پراسرار اور ناقابل یقین نتائج کی حامل ہے کہ جس میں ذرّات بیک وقت دوجگہوں پرموجودہوسکتے ہیں، جہاں ہر پیمائش غیریقینی ہے اورجس میں مشاہدہ، تجربے کے نتائج پر اثرانداز ہوسکتا ہے۔ یہ انوکھے اور عجیب وغریب نظریات کوانٹم طبیعیات کے بارے میں ایک ایسا نقطہ نظر پیش کرتے ہیں جو ہماری عام قوت مشاہدہ کی پہنچ سے باہر ہے۔ ٹیلی پورٹیشن کا تصور بھی کوانٹم کی دنیا کے ایسے ہی انوکھے عجائبات میں سے ایک ہے۔ 
    

کوانٹم ٹیلی پورٹیشن کی پیدائش
    ٹیلی پورٹیشن کا تصور، جسے اصطلاحی طور پر ”کوانٹم ٹیلی پورٹیشن“ کہنا زیادہ مناسب ہے، البرٹ آئن سٹائن اور نیلز بوہر کے درمیان ہونے والے ایک طویل علمی مباحثے سے اخذ کیا گیا تھا۔ آئن سٹائن  نے کوانٹم تھیوری کے لئے بنیادیں فراہم کیں اور وہ شروع میں اس کا حمایتی تھا لیکن ہائزن برگ کے اصول عدم یقین کے بعد اس کے خیالات میں تبدیلی آگئی۔ جب ماہرین طبیعیات کی نئی نسل نے یہ دریافت کیا کہ کوانٹم ذرّات میں امکانات کی حکمرانی ہے تو آئن سٹائن نے اپنی سوچ تبدیل  کر لی۔ بوہر کے ساتھ مباحثے میں آئن سٹائن کا یہ مشہور جملہ کہ خدا کائنات کے ساتھ پانسےنہیں کھیلتا

دراصل کوانٹم نظریات میں امکانات   کی کلیدی اہمیت پر ایک اعتراض ہے۔ اس کے بعد آئن سٹائن ایک طویل عرصے تک کوانٹ فزکس کی معقولیت چیلنج کرتے ہوئے اس پر اعتراضات کرتا رہا۔ اس سلسلے میں ۱۹۷۹ءمیں برسلز میں دنیا کے ممتاز ترین طبیعیات دانوں کی ایک کانفرنس ہوئی (جسے ”سالوے کانفرنس“  کا نام دیا گیا) جہاں آئن سٹائن اور نیلز بوہر کے درمیان متذکرہ بالا نظریات پر بہت بحث ہوئی۔ اس بحث میں آئن سٹائن کوانٹم نظریات پر حملے کرتا رہا اور نیلز بوہر ان کی توجیہہ پیش کرتا رہا۔ عینی شاہدین کے مطابق، اس مباحثے میں نیلز بوہر نے آئن سٹائن کو چاروں شانے چت کردیا تھا۔ 
     اس سلسلے میں سب سے آخری اور دلچسپ حملہ۱۹۳۵ء میں ایک مقالے کی صورت میں ہوا جسے آئن سٹائن نے اپنے دو ساتھیوں پوڈولسکی اور روزن کی معاونت سے تیار کیا تھا۔ یہ مقالہ اپنے مصنفین کے ناموں کے پہلے حروف کی مناسبت سے ”ای  کے نام سے مشہور ہوا۔ اس مقالے کا عنوان تھا ”کیا حقائق فطرت کے بارے میں کوانٹم میکانیات کا بیان مکمل سمجھا جا سکتا ہے؟“۔ اس مقالے کا اصل مقصد تو کوانٹم میکانیات پر اعتراض کرنا تھا لیکن اس میں آئن سٹائن اور اس کے ساتھیوں نے انجانے میں ایک نیا تصور پیش کردیا۔ اس تصور کے مطابق، کوانٹم ذرات کا ایک ایسا جوڑا ممکن ہے جنہیں ایک واحد موجی تفاعل (ویو فنکشن)  کے ذریعے بیان کیا جا سکتا ہے، اوریہ دونوں ذرات ایک دوسرے سے دور ہوتے ہوئے بھی باہم مربوط ہو سکتے ہیں۔ یہ دونوں ذرات کائنات میں مخالف سمتوں میں انتہائی دوری پر واقع ہو سکتے ہیں اور ان میں سے کسی ایک ذرے میں پیدا ہونے والی تبدیلی ، فوری طور پر دوسرے ذرے میں ظاہر ہو جائے گی۔ یعنی وہ دونوں ذرات عین ایک ہی لمحے میں ایک دوسرے سے رابطہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے۔ آئن سٹائن کا خیال تھا کہ اس نے کوانٹم تھیوری پر حملہ کرنے کے لئے ایک کمزوری دریافت کر لی ہے لیکن درحقیقت اس نے کوانٹم ذرات کی ایک انتہائی اہم خصوصیت کی نشاندہی کی تھی۔ 

 

    ٹیلی پورٹیشن کا طریقہ کار
   سادہ اور آسان الفاظ میں، ٹیلی پورٹیشن کا مطلب کسی چیز، یعنی مادی وجود کو ایک سے دوسرے مقام تک بالکل اسی طرح نشر کر دینا ہے جیسے ٹی وی یا ریڈیو کی نشریات بھیجی جاتی ہیں۔ گویا کوانٹم میکانیات کے مطابق، ذرات اور توانائی ، دونوں نہ صرف ایک دوسرے کے قائم مقام ہیں بلکہ انہیں ایک دوسرے میں تبدیل بھی کیا جا سکتا ہے۔ اسی بنیاد پر یہ امکان پیش کیا جاتا ہے کہ ایک نہ ایک دن سائنسی ٹیکنالوجی اس قدر ترقی کر لے گی کہ انسانوں یا مادی اشیاءکو توانائی (یعنی برقی مقناطیسی لہروں میں تبدیل کر کے، ایک سے دوسری جگہ منتقل کیا جا سکے گا اور دوسری جگہ موجود ”ریسیور“ ان لہروں کو وصول کر کے دوبارہ سے مادے میں تبدیل کر دے گا۔ اس طرح انسان کی ایک سے دوسرے مقام تک منتقلی گھنٹوں اور منٹوں کی بجائے صرف سیکنڈوں میں ہو جائے گی۔
    ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی جسم کو کامیابی کے ساتھ ٹیلی پورٹ کرنے کے لیے، ٹیلی پورٹیشن مشین کو اس جسم کے ہر ایک ذرے کی کوانٹم سطح تک کی عین ویسی ہی نقل بنانا ہوگی۔ اس عمل میں کسی گڑ بڑ کی صورت میں ٹیلی پورٹ کیا گیا جسم اصل جسم سے مختلف ہو سکتا ہے. (۱۹۸۰ءکی دہائی میں بنائی گئی ایک فلم دی فلائی میں بھی کچھ ایسا ہی دکھایا گیا کہ ٹیلی پورٹ ہونے والے سائنسدان کے جسم کے ساتھ ایک مکھی بھی ٹیلی پورٹ ہو گئی اور نتیجے کےطور پردوسری جگہ پہنچنے کے بعد اس مکھی کا سر، سائنسدان کے سر کی جگہ منتقل ہوگیا)۔
 

    کوانٹم ٹیلی پورٹیشن کا طریقہ کار
    تاہم کوانٹم میکانیات میں ہی اس عمل کو ممکن بنانے کے لئے ایک چور دروازہ موجود ہے جس کے مطابق، ذرات کو منتقل کرنے کی بجائے ، ایک ذرے کی کوانٹم خصوصیات کو ہی کسی دوسرے ذرے میں، چشم زدن میں، دور دراز مقام پر اس طرح منتقل کیا جا سکتا ہے کہ وہاں ”اصل کی ہو بہو نقل“ وجود میں آ جائے۔ ۔ لیکن چونکہ ایک ہی کوانٹم حالت بیک وقت دو ذرات میں موجود نہیں رہ سکتی اس لیے کوانٹم خصوصیت کی دوسرے ذرے میں منتقلی کے بعد پہلے ذرے کی کوانٹم حالت تباہ ہو جائے گی۔یعنی یوں کہیے  کہ نقل کے وجود میں آتے ہی، اصل وجود خود ہی غائب (یا تباہ) ہو جائے گا۔ یہ عمل اصطلاحی طور پر ”کوانٹم ٹیلی پورٹیشن “ کہلاتا ہے اوراسی عمل کو آئن سٹائن نے ”باہمی ہم آہنگی کا نام دیا تھا۔ 
 

باہمی ہم آہنگی کے اس طریقے کو کوانٹم ٹیلی پورٹیشن کے عمل میں استعمال کرنے کا خیال سب سے پہلے ۱۹۹۳ء میں پیش کیا گیا۔اس سال مانٹریال میں بین الاقوامی ماہرین کے درمیان ایک مذاکرے کا اہتمام کیا گیا جس میں ٹیلی پورٹیشن کے عمل کو ممکن بنانے کے لئے مختلف طریقوں پر غور کیا گیا۔ آئی بی ایم کے ایک محقق چارلس بینٹ نے خیال ظاہر کیا کہ باہم مربوط ذرات کا ایک جوڑاایسا مطلوبہ مواصلاتی چینل مہیا کر سکتا ہے جس کے ذریعے کسی نظام کی کوانٹم میکانیاتی حالت کو کسی دوسرے مقام پر (خواہ وہ پہلے مقام سے کتنا ہی دور کیوں نہ ہو) فی الفور ٹیلی پورٹ کیا جا سکتا ہے۔ اس مذاکرے کے آرگنائزرگائلز بریسرڈ نے اس موقع پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ کئی گھنٹوں کی مغز سوزی کے بعد آخر کار ہم ٹیلی پورٹیشن کے لئےایک قابل عمل حل تلاش کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں ،اگرچہ یہ حل بہت غیر متوقع ہے۔ 
    کوانٹم ٹیلی پورٹیشن کے عمل کےلئے تین ذرات کی ضرورت ہوتی ہے: دو باہم مربوط ذرات جن میں سے ایک ٹرانسمیٹراور دوسرا ریسیور کے طور پر کام کرتا ہے، جبکہ تیسرا وہ ذرہ ہے جس کی کوانٹم میکانیاتی حالت کو ٹیلی پورٹ کرنا مقصود ہے۔ اس تیسرے ذرے کو اس قابل بنایا جا تا ہے کہ وہ ٹرانسمیٹر ذرے کے ساتھ عمل کرتے ہوئے اس میں مطلوبہ کوانٹم تبدیلی پیدا کرے۔ یہ تبدیلی عین اسی وقت دوسرے ریسیور ذرے میں ظاہر ہو جائے گی۔ اس عمل کے ذریعے مختلف اقسام کی کوانٹم معلومات مثلاً کسی بنیادی ذرے کا گھماؤ اورقطبیت وغیرہ کو ٹیلی پورٹ کیا جا سکتا ہے۔ اگر یہ معلومات روایتی مواصلات کے ذریعے بھی دور دراز موجود ریسیور ذرے تک پہنچائی جائیں تو وہ ذرہ اپنے شریک (پارٹنر) ذرے کی کوانٹم حالت اختیار کر لیتا ہے ۔ 
 

    کوانٹم ٹیلی پورٹیشن کے عملی تجربات کا احوال  

ویانا میں انتون زیلنگراور روم میں فراسسکو ڈی ماٹینی نے ایک فوٹون کی قطبیت کو دوسرے فوٹون میں منتقل کرتے ہوئے جزوی ٹیلی پورٹیشن کا مظاہرہ کیا۔ ۲۰۰۴ءتک زیلنگر نے فوٹون کی اس قطبیت کو دریائے ڈینوب کے نیچے موجود ایک سرنگ میں  ۶۰۰ میٹر تک کے فاصلے تک ٹیلی پورٹ کرنے میں کامیابی حاصل کر لی۔ بظاہر ایسا دکھائی دیتا ہے کہ فوٹونز کو ٹیلی پورٹ کرنا کوئی بڑا کارنامہ نہیں ہے، کیونکہ روشنی کے لئے ایک جگہ سے دوسری جگہ سفر کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ لیکن اصل بات یہ ہے کہ اس عمل میں کامیابی کے نتیجے میں اس طریقہ کار کو دیگر مادی ذرات پر لاگوکیا جا سکے گا۔ دریائے  ڈینوب والے تجربے کے بعد دس سال تک سائنسدانوں کی زیادہ تر کوشوں کا محور یہ تھا کہ کوانٹم ٹیلی پورٹیشن کے عمل کو پختہ اور دہرائے جانے کے قابل بنایا جائے۔ نیز اس عمل کو فوٹونز سے بڑھا کر ایٹم تک لے جانے کی کوشش بھی کی جاتی رہی۔ 
     یونیورسٹی آف میری لینڈ اور یونیورسٹی آف مشن گن کے ماہرین نے  جوائنٹ کوانٹم انسٹیٹیوٹ کے زیر نگرانی ایک تجربہ کیا جس میں ایک ایٹم کی کوانٹم حالت کو ایک میٹر کے فاصلے پر موجود ایک دوسرے ایٹم میں منتقل کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ اس عمل میں وقت کی درستگی کی شرح  ۹۰فیصدتھی۔ میری لینڈ یونیورسٹی کی اس تحقیق کی بنیاد پر یونیورسٹی آف ڈیلف  کے ماہرین نے الیکٹرانوں کی ایک خصوصیت یعنی گھماﺅ کو الیکٹرانوں کے درمیان تین میٹر کے فاصلے پر وقت کی  ۱۰۰فیصد درستگی کے ساتھ منتقل کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ یہ تجربہ کوانٹم کمپیوٹنگ کے لیے درکار مواصلاتی چینل کی تیاری میں ایک اہم سنگ میل تھا۔ ڈاکٹر ہینسن کہتے ہیں کہ یہ تجربہ دو سالڈ اسٹیٹ چپس کے درمیان ٹیلی پورٹیشن ظاہر کرنے والا پہلا تجربہ تھا۔محض کچھ ہی دن بعد، ایک اور ٹیم نے اس مظاہرے کی حد بڑھاتے ہوئے اسے اچانک  ۱۴۳کلومیٹر کے ریکارڈ فاصلے تک پہنچا دیا۔ یہ تجربہ اینتون زیلنگر کی ٹیم نے سرانجام دیا۔ ۲۰۱۵ میں  آرہس یونیورسٹی ڈنمارک کے جیکب شیرسن اور ان کے رفقائے کار نے سیزیم کے لگ بھگ دس کھرب ایٹموں کے درمیان کوانٹم ٹیلی پورٹیشن کا کامیاب تجربہ کیا۔  ۲۰۱۷ میں ایک چینی ٹیم نے دعویٰ کیا  کہ انہوں نے زمین سے ایک فوٹوون کو۵۰۰ کلومیٹر کی بلندی پر  گردش کرنے والے سیٹلائٹ پر ٹیلی پورٹ کیا ہے۔  ۲۰۲۰ میں چین ہی کے  سائنسدانوں کی ایک ٹیم  نے  دعویٰ کیا کہ اس نے ” کوانٹم انٹیگلمنٹ “ کا استعمال کرتے ہوئے ۱۲۰۰ کلومیٹر کے فاصلے پر کوانٹم کرپٹوگرافی کا عمل سر انجام دیا ۔  

    بظاہر ایسا نظر آتا ہے کہ یہ تمام تجربات ڈیلف کی ٹیم کے تین میٹر کے تجربے کو پختگی فراہم کررہے ہیں لیکن اگر طویل فاصلوں کو مد نظر رکھیں تو ان میں درستگی کی شرح صرف ۱فیصدہے۔ یہ شرح حقیقی دنیا کے ان کمپیوٹنگ معاملات تک رسائی کے عمل کو ناممکن بناتی ہے جو کہ صرف اور صرف درستگی پر انحصار کرتے ہیں 

 

    کوانٹم کمپیوٹنگ اور ٹیلی پورٹیشن  

     فوٹونوں کو ٹیلی پورٹ کرنے کا عمل، دراصل کوانٹم کمپیوٹنگ کی طرف ایک اہم پیش رفت ہے۔ کوانٹم کمپیوٹر میں کوانٹم ذرات کی حالت کو ”   کیوبٹس“  کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ کیوبٹس، روایتی کمپیوٹر کی ”بٹس“  کے مماثل ہیں۔ ڈیلف یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کے ڈاکٹر رونالڈ ہینسن کہتے ہیں کہ کوانٹم ٹیلی پورٹیشن اب تک کا وہ واحد معلومہ طریقہ ہے جس کے ذریعے کوانٹم اطلاعات کو طویل فاصلے تک قابل بھروسہ طریقے سے منتقل کیا جا سکتا ہے۔ اس کے بغیر کوانٹم کمپیوٹنگ کا تصور ناممکن ہو جاتا ہے اور اس طرح ہم نے پیچیدہ حسابات کے لئے کوانٹم کمپیوٹنگ سے جو امیدیں وابستہ کی ہوئی ہیں، وہ سب ادھوری رہ جائیں گی۔ 
اطلاعات کے مطابق، گوگل نے دنیا کا اولین کوانٹم کمپیوٹر ڈی ویو تیار کرنے کا دعویٰ کیا ہے تاہم ابھی اس کی رفتار،درستگی اور کارکردگی کے بارے میں زیادہ تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں۔ 
    امریکی فوج اس وقت اپنے پیغامات کو خفیہ طریقے سے منتقل کرنے کے لئے ایک کوانٹم کمیونیکیشن سسٹم پر کام کر رہی ہے۔ اس کے پروٹو ٹائپ طریقے میں اطلاعات کے حامل فوٹون پیدا کئے جاتے ہیں اور پھر انھیں باہم مربوط جوڑوں کے ساتھ عمل کرنے دیا جاتا ہے۔ اطلاعات کے حامل ان فوٹونوں کو راستے میں ہی اچک لینے کے لئے کی گئی کسی کوشش میں یہ اطلاعات منتشر ہو جائیں گی۔ امریکی فوج کو اس معاملے میں سب سے اہم چیلنج یہ درپیش ہے کہ میدان جنگ کے پر انتشار ماحول میں ان فوٹونوں کے ضائع ہونے کے امکانات کم سے کم کئے جائیں۔ 
    اس سلسلے میں تازہ ترین پیش رفت ۲۵ مئی ۲۰۲۲ کو سامنے آئی جب ڈیلفٹ یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی اور نیدرلینڈز آرگنائزیشن فار اپلائیڈ سائنٹیفک ریسرچ  کے ماہرین  نے ایک ابتدائی نیٹ ورک میں کوانٹم معلومات کو ٹیلی پورٹ کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔  مستقبل کے  کوانٹم انٹرنیٹ کی جانب یہ ایک اہم قدم ہے۔ یہ پیش رفت بہت بہتر کوانٹم میموری اور نیٹ ورک کے تین نوڈز کے درمیان کوانٹم روابط کے بہتر معیار کی وجہ سے ممکن ہوئی۔

 

    کیا انسانی جسم کو ٹیلی پورٹ کرنے کا خواب کبھی پورا ہو سکے گا ؟ 

    بظاہر ایسا نظر آتا ہے کہ کوانٹم کمپیوٹر کے لئے درکار کوانٹم ٹیلی پورٹیشن بہت جلد ممکن ہو جائے گی لیکن کیا ہم کبھی کوئی ٹھوس شے بھی ٹیلی پورٹ کر سکیں گے؟ انسانی جسم کو ٹیلی پورٹ کرنا تو ابھی بہت بعید از قیاس نظر آتا ہے، تاہم کرس مونرو کا کہنا ہے کہ ابھی ہمارے لیے ایک قدر ے بڑے مالیکیول کو ٹیلی پورٹ کرنا بھی بہت بڑا چیلنج ہے۔ ” اگر آپ ایک ڈی این اے مالیکیول کی کوانٹم حالت کو ٹیلی پورٹ کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں تو یہ عمل مستقبل قریب میں توشاید ممکن نہ ہو لیکن سائنسی معاملات کے ساتھ ساتھ کئی اخلاقی معاملات بھی بحث طلب ہیں۔مثلاً جب ہم انسانی جسم کی منتقلی کی بات کرتے ہیں تو کوانٹم ٹیلی پورٹیشن کے طریقے کے تحت، ہم جسمانی اعضاءکو نہیں بلکہ انھیں تعمیر کرنے والی ہدایات کو منتقل کریں گے۔ یہ ہدایات ایک ریسیونگ ڈیوائس میں پہنچیں گی جہاں ان ہدایات کے مطابق ان اعضاءکی دوبارہ تیاری کےلئے درکار ایٹم پہلےسےموجود ہونے چاہئیں۔ گویا ٹیلی پورٹ ہونے والی واحد چیز دراصل ایٹموں کی درست ترین ترتیب اور کوانٹم انفارمیشن(کوانٹم اطلاع) ہوگی ۔“ 
    اگر ہم انسانی جسم کی ٹیلی پورٹیشن کے سائنسی امکان پر ہی بات کریں تو کوانٹم ٹیلی پورٹیشن کے عمل میں پختگی کے باوجود اس سارے عمل میں کئی دیگر تکنیکی مسائل کا بھی سامنا کرنا ہوگا جن میں سے ایک اہم مسئلہ بہت زیادہ توانائی کی ضرورت ہے۔وائرس جیسی کسی چھوٹی چیز کو ٹیلی پورٹ کرنا توشاید ممکن ہو جائے گا لیکن کسی بڑے جسم کو ٹیلی پورٹ کرنے کا عمل ذرہ ذرہ کر کے ہی مکمل کیا جا سکتا ہے۔ ایک انسانی جسم تقریبا ۷ ایٹموں پر مشتمل ہوتا ہے۔ فرض کریں کہ ہم ایک سیکنڈ میں ایک ہزارارب (ایک ٹریلین) ایٹموں کو پراسس کر سکیں ، تب بھی ایک انسانی جسم کے تمام ایٹموں کو پراسس کرنے میں ۱۰ سیکنڈ صرف ہوں گے۔ یہ ۲۰کروڑ سال کا عرصہ بنتا ہے۔ نیز یہ کہ ڈیٹا کی اتنی زیادہ مقدار کو ٹرانسمٹ کرنے کے لئے، ایک محتاط اندازے کے مطابق قریباً ۱۰۱۲گیگا واٹ آور توانائی درکار ہو گی ۔ برطانیہ کے تمام بجلی گھروں کی کل  صلاحیت۸۳ گیگا واٹ آور ہے۔ یعنی ایک انسانی جسم کو ٹیلی پورٹ کرنے کے لئے برطانیہ کے تمام بجلی گھروں کی قریباً ۱۰سال کی توانائی درکار ہو گی۔ یاد رہے کہ پاکستان کی توانائی کی کل ضرورت محض  ۲۲۰۰۰میگا واٹ آور ہے۔ 
    اگر یہ سب کچھ بھی ممکن ہو جائے تب بھی شاید کچھ مسافر ٹیلی پورٹیشن ڈیوائس کو استعمال کرنا پسند نہ کریں۔ یہ بات یاد رکھیں کہ آپ خود ا مقام سے مقام ب پر منتقل نہیں ہو ں گے بلکہ یہ عمل دراصل آپ کے جسم کے ایک ایک ایٹم کی کوانٹم معلومات حاصل کرے گا اور یہ معلومات دوسری جگہ موجود ریسیونگ ڈیوائس تک منتقل کرے گا جہاں آپ کی ایٹموں کی ہو بہو نقل تیار کی جائے گی۔ جی ہاں! ٹیلی پورٹ کیا گیا جسم دراصل آپ کے جسم کی ہو بہو نقل ہو گی اور آپ کا اصل جسم تباہ ہو جائے گا۔ 
    شاید ہم مستقبل قریب میں روشنی کی رفتار سے سفر نہ کر سکیں، لیکن کوانٹم ٹیلی پورٹیشن ہمیں قابل عمل کوانٹم کمپیوٹرز  کے کچھ قریب ضرور لے آئی ہے۔ 
   

کوانٹم انٹینگلمنٹ کے ماہرین کے لیے ”نوبل انعام“  برائے ۲۰۲۲ 

    آپ کے علم میں ہو گا کہ ۲۰۲۲ ء کا نوبل انعام برائے طبیعیات،  کوانٹم مکینکس کے میدان میں موجود انھی  پیچیدہ تصورات کی وضاحت کرنے  پر تین سائنسدانوں کو دیا گیا ہے۔ نوبل کمیٹی برائے فزکس کے مطابق، یہ انعام فرانس کے ایلین اسپیکٹ ، امریکا کے جان ایف کلوزر اور آسٹریا کے اینتون زیلنگر  کو مشترکہ طور پر دئیے جانے کا اعلان کیا گیا   کیونکہ انھوں نے   ”کوانٹم انفارمیشن ٹیکنالوجی“ کے ایک نئے دور کی بنیاد رکھی ہے۔ ان تینوں سائنسدانوں نے کوانٹم میکانیات کے میدان میں، آزادانہ طور پر کام کرتے ہوئے، ایسے تجربات کیے جس سے ”کوانٹم ہم آہنگیکی سائنسی تفہیم میں مدد ملی۔اس تحقیق کی بدولت کوانٹم کمپیوٹرز، کوانٹم نیٹ ورکس اور محفوظ کوانٹم انکرپٹڈ کمیونیکیشن کی ٹیکنالوجی کو پختہ کرنے  کے ساتھ ساتھ ” کوانٹم ٹیلی پورٹیشن “کے جادوئی تصور کو سمجھنے میں بھی مدد ملی ہے۔